سلام ہے سلام ہے، بلال کو سلام ہے
کِیا بڑا ہی کام ہے، بلال کو سلام ہے
ہزار تھے جتن یہاں، مگر تھا حوصلہ جَواں
لگن بھی اِس کی تام ہے، بلال کو سلام ہے
نہ مُشکِلُوں کا کوئی ڈر، قلَم کِیا ہے اُن کا سَر
یہ تیغِ بے نیام ہے، بلال کو سلام ہے
ہے اجتماع کا یہ شغف، پڑا ہے شور ہر طرف
عجب ہی دُھوم دَھام ہے، بلال کو سلام ہے
نَیا لِکھیں نِصاب ہم، رَقَم کریں گے باب ہم
ہُُجوم کی عوام ہے، بلال کو سلام ہے
نبی کے حکم پر چلیں، خُدا کو راضی ہم کریں
ہمارا یہ مقام ہے، بلال کو سلام ہے
سُنیں گے زیرکؔ ہم سبھی، زباں سے تیری جلد ہی
کیا خوب یہ کلام ہے، بلال کو سلام ہے

0
5