ربط ایسا اس کے میرے درمیاں بنتا گیا
وہ جو خود اک راز تھا وہ رازداں بنتا گیا
میری جانب دیکھتا ہی تھا نہ وہ پہلے پہل
پھر وہ مائل ہو گیا اور مہرباں بنتا گیا
پہلے اپنی گفتگو سے دل میں اس نے گھر کیا
ہو کے محرم جان کا وہ جانِ جاں بنتا گیا
پہلے پہلے ٹوکتاتھا مجھ کو ہراک بات پر
رفتہ رفتہ پھر وہ میرا ترجماں بنتا گیا
پہلے اپنے دل میں روشن مشعلِ عشقی ہوئی
پھر میں اس کی روشنی سے ضوفشاں بنتا گیا
جب سے بچھڑا ہے وہ مجھ سے آنکھ نم رہنے لگی
دھڑکنوں کا شور بھی آہ و فغاں بنتا گیا
اس کا چہرہ نقش جو آنکھوں میں تھا پہلے قمر
فاصلہ بڑھتا گیا تو وہ دھواں بنتا گیا
قمرآسیؔ

0