| عشق بس دل پے راج کرتا ہے |
| دل کو اپنا مزاج کرتا ہے |
| عقل عیار بھیس بدلے سو |
| عشق دل کو دھراج کرتا ہے |
| عقل رہتی ہے اپنی حد میں ہی |
| عشق ہر راز لاج کرتا ہے |
| جس پہ ہو جائے اک نظر اس کی |
| وہ کہاں احتجاج کرتا ہے |
| خاک کر دیتا ہے انا کو بھی |
| پھر دلوں پر یہ تاج کرتا ہے |
| عشق سجدوں میں ڈھال دیتا ہے |
| بندے کو اِبْتِہاج کرتا ہے |
| درد دیتا ہے اور پھر خود ہی |
| درد کا بھی علاج کرتا ہے |
| عشق خاموش رہ کے دنیا میں |
| اپنا گہرا سماج کرتا ہے |
| جس کو مل جائے ذوقِ درشن تو |
| وہ کہاں کوئی باج کرتا ہے |
| دل ہے گر عشق کی اسیرِی ہیں |
| ہر نفس ذکرِ تاج کرتا ہے |
| عشق ارشدؔ کا جب نصیبا ہے |
| خود کو مٹی کا داج کرتا ہے |
معلومات