ہر گام مشکلات مرے ہاتھ میں نہیں
یعنی کہ کائنات مرے ہاتھ میں نہیں
ہر زخم محترم مجھے ہر وہم دلفریب
جس طور ہے حیات مرے ہاتھ میں نہیں
دل کی فسردگی میں ملوث ہے آرزو
جس سے مری نجات مرے ہاتھ میں نہیں
دل! جو تسلی پاۓ، کرے تو خدا کرے!
پھر ایسے معجزات مرے ہاتھ میں نہیں
پھر جانا چاہتا ہوں اسی شہرِ دل مگر!
آثارِ ممکنات مرے ہاتھ میں نہیں

0
1