بات دل کی لبِ اظہار پہ لائی نہ گئ
ہائے افسوس کبھی ان کو بتائی نہ گئی
آخرِ کار نگاہوں نے بیاں کر ہی دی
لاکھ کوشش کی مگر بات چھپائی نہ گئی
دیکھ کر برقِ تجلی جو نظر میری جھکی
پھر نظر بار دگر مجھ سے اٹھائی نہ گئی
دل میں اِس طرح منقش ہوئی اُس کی تصویر
ہم بچھڑ بھی گئے لیکن وہ ہٹائی نہ گئی
طبعِ نازک پہ گراں گزرے گی قربت کی طلب
اس لئے ان سے کوئی آس لگائی نہ گئی
عاشقوں کا ہے ازل ہی سے زمانہ حاسد
آج تک اہلِ جہاں کی یہ برائی نہ گئی
ذکر آنا تھا کہانی میں تری خامی کا
سو تقیؔ سے وہ کہانی ہی سنائی نہ گئی

0
4