| یار دل سے کلام کرتے ہیں |
| ان کو سن سن کے ہم مچلتے ہیں |
| دل کو پیغامِ یار ملتے ہیں |
| سن کے ہم جن کو شعر کہتے ہیں |
| دل کے گُل سے، پَیَامِ یارِ دل |
| تتلیوں کی طرح نکلتے ہیں |
| دل مُعطّر ہے ان کی باتوں سے |
| لفظ جتنے ہیں سب مہکتے ہیں |
| اے ذکیؔ سن کے یار کی باتیں |
| سنگ دل، جتنے ہیں، پگھلتے ہیں |
معلومات