فلک پہ چاک گُھما کر اُسے بنایا گیا
حدِ کمال پہ جا کر اُسے بنایا گیا
زمانے بھر کے چنیدہ گلاب گوندھے گئے
پھر اُن میں دودھ ملا کر اُسے بنایا گیا
کہ تا وہ رشک کرے اپنی بے مثالی پر
مثال اُس کی چھپا کر اُسے بنایا گیا
اِسی لیے وہ بنایا گیا لہکتا بدن
لگے کہ موج میں آ کر اُسے بنایا گیا
مقام اپنے مقدر پہ ناز کرتا ہے
جہاں سے خاک اُٹھا کر اُسے بنایا گیا
تبھی پسینے سے بوئے گلاب آتی ہے
رگوں میں عطر بسا کر اُسے بنایا گیا
وہ کوزہ اہلِ خرد کی سمجھ میں کیوں آئے
متاعِ ہوش گنوا کر اُسے بنایا گیا
قمر کمی نہیں چھوڑی گئی کوئی اُس میں
لہو جگر کا جلا کر اُسے بنایا گیا
قمرآسیؔ

0