اگر خود سے ہی نِسبت ہے
کسی کی کیا ضرورت ہے
اِسی خاطر میں تنہا ہوں
کہ آزادی سے الفت ہے
شہ کی بیعت کروں کیسے
مرے خوں میں بغاوت ہے
بے اخلاقوں کی محفل میں
خموشی میری عزت ہے
مرا سرمایۂ ہستی
مری فولادی ہمت ہے

0
4