کہہ رہے ہیں کریں گے دیوانہ مجھے
اپنے قدموں میں دیں گے ٹھکانہ مجھے
آخری عُمر آیا تِری بَزم میں
جانِ جاناں نہ اب تو اُٹھانا مجھے
روح اپنی مِلاؤں تِری روح سے
کاش مِل جائے کوئی بَہانہ مجھے
نام تیرے کی مالا میں جپتا رہوں
ذِکر تیرا لگے ہے سُہانا مجھے
بندھ گیا ہے جو بندھن تِری ذات سے
تا اَبد اب نہیں ہے چُھڑانا مجھے
جس سے روشن ہُوا اَولیا کا چمن
نُورِ وحدت خُدارا دِکھانا مجھے
ہاتھ جوڑے میں بِنْتی کَروں اے گُرو
ایک گُر عاشقی کا سِکھانا مُجھے
رسم رِندانِ رَفتہ کی جاری رہے
جام ایسا اے ساقی پلانا مجھے
تیر کھا کر ہی تیرے اے قاتل نظر
آگیا ہے نگاہیں ملانا مجھے
ایک دل لے کے مُجھ سے مِرے دلرُبا
دے رہے ہیں وہ سارا زمانہ مجھے
ہو چلا ہوں میں تیرا اے خواجہ مِرے
اپنے دامن میں لے کے چُھپانا مجھے

0
10