میری زندگی میں خوشی بھی ہے میری زندگی میں الم بھی ہے
میرے دل میں موج طرب بھی ہے،میرے دل میں زخم رقم بھی ہے
کبھی صبحِ نو کی کرن بھی ہے کبھی شامِ غم کی چُبھن بھی ہے
کبھی دل میں زندہ امنگ بھی ہے کبھی دل میں دردِ بَہَم بھی ہے
کبھی خواب آنکھوں میں بس گئے، کبھی خواب آنکھوں سے بہہ گئے
کبھی ان سے دل میں چمن بھی ہے،کبھی ان کا درد و ستم بھی ہے
میں ہنسوں تو دنیا ہنسی بھی ہے، میں روؤں تو دنیا روئی بھی ہے
میری بے بسی کا یہ حال ہے، یہی زندگی کا بھرم بھی ہے
نہ ہی شکوہ لب پے میں لا سکا ، نہ شکایتوں کا ہنر ہی ہے
میرے صبر کا یہ ثمر ملا ، میرے شکر کا یہ کرم بھی ہے
اے منور اپنے چراغ خود ،ذرا اس طرح سے جلا کے رکھ
کہ ہوا بھی دیکھ کے کہہ اٹھے ، ابھی اس چراغ میں دم بھی ہے

0
8