| جون کے رنگ میں ایک غزل |
| مل کے رہنے کی جو صورت تھی، مٹا دی گئی کیا |
| پھر محبت کی بھی بنیاد گرا دی گئی کیا |
| بے نشاں کب کے ہوئے سارے پرانے نقشے |
| اور کوئی نئی تصویر بنا دی گئی کیا |
| منہ اٹھائے چلے آتے ہیں اندھیروں کے سفیر |
| وہ جو اک رسمِ چراغاں تھی، اٹھا دی گئی کیا |
| ایک بندے کی حکومت ہے، خدائی ساری |
| یہ منادی بھی زمانے میں کرا دی گئی کیا |
| اب کے پانی میں یہ سرخی ہے بھلا کیسی، بتاؤ |
| بہتے دریا میں کوئی چیز ملا دی گئی کیا |
| کم سے کم دیکھ تو لیتا میں فصیلِ زنداں |
| میری زنجیر کی حد اور بڑھا دی گئی کیا |
| میں اندھیروں میں بھٹکتا ہوں تو حیرت کیسی |
| میرے رستے میں کوئی شمع جلا دی گئی کیا |
معلومات