ہو سکے تو کبھی کبھی کرنا
گرچہ مشکل ہے زندگی کرنا
کارِ عصیاں ہے عیب لگتا ہے
اِس زمانے میں عاشقی کرنا
بزمِ جاناں سے اُٹھ کے جانے کا
صاف مطلب ہے خودکشی کرنا
چاند نکلے تو اُس سے پوچھیں ہم
کس سے سیکھا ہے بے رُخی کرنا
یہ سلیقہ بھی اُس کو آتا ہے
بات کرنا تو اَن کہی کرنا
اِک وہ کافر حسیں ہے اور اُس کا
پھر دلیلوں سے بات بھی کرنا
تیری زُلفوں سے ہم نے سیکھا ہے
چھاؤں کرنا تو پھر گھنی کرنا

0
3