| ہو سکے تو کبھی کبھی کرنا |
| گرچہ مشکل ہے زندگی کرنا |
| کارِ عصیاں ہے عیب لگتا ہے |
| اِس زمانے میں عاشقی کرنا |
| بزمِ جاناں سے اُٹھ کے جانے کا |
| صاف مطلب ہے خودکشی کرنا |
| چاند نکلے تو اُس سے پوچھیں ہم |
| کس سے سیکھا ہے بے رُخی کرنا |
| یہ سلیقہ بھی اُس کو آتا ہے |
| بات کرنا تو اَن کہی کرنا |
| اِک وہ کافر حسیں ہے اور اُس کا |
| پھر دلیلوں سے بات بھی کرنا |
| تیری زُلفوں سے ہم نے سیکھا ہے |
| چھاؤں کرنا تو پھر گھنی کرنا |
معلومات