| جہاں تیری محفل سجی دیکھتے ہیں |
| زمیں تا فلک روشنی دیکھتے ہیں |
| کبھی جو تری ہم گلی دیکھتے ہیں |
| ردا نور کی اک تنی دیکھتے ہیں |
| سرِ حشر ہیں پارسا محوِ حیرت |
| گناہگاروں کی جو بنی دیکھتے ہیں |
| صحابہ کو تیرے جو دیکھیں لگے یوں |
| ستاروں کی جیسے لڑی دیکھتے ہیں |
| گدائی کو تیری شہنشاہ بھی ترسیں |
| کہ منگتوں کی جھولی بھری دیکھتے ہیں |
| ہے نعتوں کا صدقہ جو یہ دنیا والے |
| مری کھوٹی قسمت کھری دیکھتے ہیں |
| امیر و گدا، انبیاء و ملائک |
| ترے در کی جانب سبھی دیکھتے ہیں |
| ہے معراج کی شب قطاریں بنی ہیں |
| اب آئیں گے آقا نبی دیکھتے ہیں |
| نہ کیوں ناز مانگوں میں صدقہ انہیں کا |
| کہ جن کے کرم کو سبھی دیکھتے ہیں |
معلومات