| زمیں پر ایڑیاں رگڑی کوئی بھی جل نہیں نکلا |
| ہماری اس اداسی کا کوئی بھی حل نہیں نکلا |
| یہ رسی فطرتاً بل دار ہے سو کیا کرے کوئی |
| کہ میں نے لاکھ کوشش کی پر اس کا بل نہیں نکلا |
| ہمارے ضبط پر شاہد ہیں صحراوں کے ذرے تک |
| ہمارے صبر کے بوٹے پہ میٹھا پھل نہیں نکلا |
| حوالے کر دیا ہے خود کو بلاآخر تند موجوں کے |
| ہماری انکھ سے لیکن ابھی ساحل نہیں نکلا |
| زباں پر ورد حق ایسا خدا کے ساتھ دھوکا ہے |
| دلوں سے جب تلک اندیشہِ باطل نہیں نکلا |
معلومات