زمیں پر ایڑیاں رگڑی کوئی بھی جل نہیں نکلا
ہماری اس اداسی کا کوئی بھی حل نہیں نکلا
یہ رسی فطرتاً بل دار ہے سو کیا کرے کوئی
کہ میں نے لاکھ کوشش کی پر اس کا بل نہیں نکلا
ہمارے ضبط پر شاہد ہیں صحراوں کے ذرے تک
ہمارے صبر کے بوٹے پہ میٹھا پھل نہیں نکلا
حوالے کر دیا ہے خود کو بلاآخر تند موجوں کے
ہماری انکھ سے لیکن ابھی ساحل نہیں نکلا
زباں پر ورد حق ایسا خدا کے ساتھ دھوکا ہے
دلوں سے جب تلک اندیشہِ باطل نہیں نکلا

0
3