| مرا دل چرا لیا ہے اسی پیار کے بہانے |
| کہیں اور دور رہتے لگے ہوتے ہم ٹھکانے |
| تری ایک مسکراہٹ نے بدل دی میری دنیا |
| ہمیں مل گئے تھے ورنہ وہ غموں کے آشیانے |
| تری یاد کے سہارے ہی کٹی ہے رات ساری |
| نہ چراغ تھے میسر نہ کہیں تھے باد خانے |
| نہ خبر تھی دل لگانے کی یہ قیمتیں بھی ہوں گی |
| نہ یہ عمر بھر رُلاتے کبھی پیار کے فسانے |
| تری یاد ساتھ لے کر کئی مرحلے چلے تھے |
| کبھی اشک مسکرائے، کبھی ہنس پڑے زمانے |
| مرے زخم گنگناتے ہیں تری وفا کی دھن پر |
| یہ عجب مزاجِ دل ہے، نہ بجھے کبھی ترانے |
| ترے بعد سوچتا ہوں یہی بیٹھ کر میں اکثر |
| جو بکھر گئے ہیں سپنے، وہ کہاں ملیں خزانے |
| ہمیں چھوڑ کر گئے ہو تو یہ سوچتے ہیں ارشدؔ |
| کوئی اور کیا بسائے، جو اجڑ گئے ٹھکانے |
| مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی |
معلومات