| خواب پلکوں پہ اپنی اجالے ہوئے |
| زخم دل کے زباں سے نکالے ہوئے |
| سارے درد و الم کے پرانے نشاں |
| کر رہے ہیں بیاں دکھ سنبھالے ہوئے |
| کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں قیمت نہیں |
| کاٹ لیتے ہیں ہاتھوں کے پالے ہوئے |
| کون رکھتا ہے جی سے لگا کے کسے |
| دل ہیں پتھر جگر سب کے کالے ہوئے |
| مجھ سے ہرگز نہ پوچھو مرے دوستو |
| جال دریا میں دشمن ہیں ڈالے ہوئے |
| ہے غنیمت کہ دنیا میں زندہ ہیں ہم |
| لوگ آہ و فغاں کے حوالے ہوئے |
| رقص شاہد قیامت کا ہے ہر طرف |
| موت کا وقت ہم بھی ہیں ٹالے ہوئے |
معلومات