| ہم پر رہے خدا سدا سایہ حسین کا |
| کھائیں تمام عمر ہی صدقہ حسین کا |
| گردابِ غم ہمیں لئے پھرتی تھی کو بہ کو |
| فضلِ خدا سے مل گیا سایا حسین کا |
| وہ معترض ہے ناری کیا اس کی آبرو |
| جس کو نہ وصف ایک بھی بھایا حسین کا |
| ان کو ملا سواری کو کاندھا حضور کا |
| مشکل ہے کوئی مثل ہو آیا حسین کا |
| شکرِ خدا کہ پنجتنی نسلوں سے ہوئے |
| ورثے میں ہم نے جذبہ ہے پایا حسین کا |
| چرچا کریں نہ ہم کیوں اب اپنے نصیب کا |
| ہے جامِ حب بڑوں نے پلایا حسین کا |
| اصحاب و آل میں وہ سبھی کے عزیز تھے |
| یوں ہی نہیں ہے دل مرا جویا حسین کا |
| ترجیح اپنے بیٹے پہ فاروق دیں انہیں |
| وہ جانتے تھے کیسا ہے شجرہ حسین کا |
| اصحابِ مصطفیٰ کو وہ دیتے نہ گالیاں |
| صدقہ جلال جس نے ہے کھایا حسین کا |
معلومات