عَجب ہے بزم تِری کا نظام مستانے
کہیں پہ رند ہیں بیٹھے کہیں پہ دیوانے
کسی نے ہوش گنوائے کسی نے پیمانے
پڑی ہے جس پہ نظر بس وہی اثر جانے
تری نظر ہے کہ شعلہ ہے شمعِ وحدت کا
کہ پھونک ڈالے ہیں جس نے دُوئی کے بت خانے
سنا ہے ایک نظر سے بنائے دیتے ہو
ہزار رندِ سَبُوکَش، ہزار افسانے
خمار تیری نظر کا نہ عمر بھر ٹوٹے
تری نظر پہ میں واروں ہزار پیمانے
تِری نظر سے نظر کا سوال کرتا ہوں
نظر ملے تو میں کھولوں وفا کے میخانے

0
4