حبِ دنیا سے مرے دل کو بچائے رکھنا
اپنی یادوں میں مرے دل کو لگائے رکھنا
ہو نہ جاؤں کہیں دنیا میں مگن ہی مولا
اپنے جلوؤں سے مرے دل کو سجائے رکھنا
خوف آتا ہے مجھے تجھ سے جدا ہونے کا
تیرا عاشق تو مرے دل کو بنائے رکھنا
پاس آئے نہ کبھی میرے جہل کی آفت
علمِ نافع سے مرے دل کو سجائے رکھنا
الفتِ دنیا کا آتا ہے مجھے خوف سدا
معرفت سے تو مرے دل کو رچائے رکھنا
تیرے جلوؤں کی جھلک قلب سے آتی ہی رہے
عشق میں ایسا مرے دل کو لبھائے رکھنا
یادِ احمد ﷺ میں گزر جائے مری عمرِ رواں
ان کی یادوں سے مرے دل کو نِہائے رکھنا
نورِ احمد رضا ہو تجھ میں فنا اے مولا
نورِ احمدﷺ سے مرے دل کو جگائے رکھنا
ہے تری ذات کا یہ نور تجھی سے طالب
عشق سے اپنے مرے دل کو جلائے رکھنا

0
71