| شمس و قمر نجوم تھے جس شب چھپے ہوئے |
| ارمان ان سے دل کے کہے سب چھپے ہوئے |
| چشمِ سیہ کی برق تو سہہ لی تھی قلب پر |
| مر ہی گئے جو دیکھے حسیں لب چھپے ہوئے |
| کاجل میں جگمگاتے ہیں جذبات پیار کے |
| رہتے نہیں ہیں رات میں کوکب چھپے ہوئے |
| لمسِ لبِ شباب میں مصری کی ہے مٹھاس |
| امرت کے ذائقے ہیں دروں لب چھپے ہوئے |
| سمجھے نہیں ہیں ظاہری اطوار اب تلک |
| سمجھیں گے کیسے یار کے ہم ڈھب چھپے ہوئے |
| قربت جو دیکھی مجھ سے تری، مارے بغض کے |
| ظاہر ہوئے رقیب مرے سب چھپے ہوئے |
| مدت کے بعد ہو ملے کھونا نہ اب کہیں |
| برسوں کہیں پہ تم رہے غائب چھپے ہوئے |
| تجھ سے غزل میں کہہ دیا ہے مدعائے دل |
| شعروں میں میرے ڈھونڈ لے مطلب چھپے ہوئے |
| تاریک شب جو دیکھی تو خود کو جلا لیا |
| ہم جل بجھے تو جگنو جلے سب چھپے ہوئے |
| کشمیر اور غزہ پہ تو فرما دے اب کرم |
| دکھلا دے کن کے معجزے یا رب چھپے ہوئے |
| باہر کے دشمنوں سے تو لڑ لیں گے ہم مگر |
| ہم حیدروں کی صف میں ہیں مرحب چھپے ہوئے |
| بچ نکلو آستین کے سانپوں سے جب سحاب |
| ڈھونڈو جو اقربا میں ہیں عقرب چھپے ہوئے |
معلومات