مخلوق اولیں ہیں وہ بے مثال ہیں
نمکین حسن والے روشن جمال ہیں
تشبیہ کس سے دیجے آقا کے نور کو
شمس و قمر سے روشن آقا کے گال ہیں
اسباب کیا لکھوں میں ان کے ورود کے
ہر خلق کے لیے وہ راحت کمال ہیں
رونق انہیں وہ بخشیں جو پر ملال ہیں
ان کی نوازشیں ہی رحمت پہ دال ہیں
ان کا ہی پاک در ہے امیدِ عاصیاں
وہ ہی تو عاصیوں کی محشر میں ڈھال ہیں
ان کے کرم نے سب کو دی ہیں بلندیاں
ادنی غلام تھے جو، حضرت بلال ہیں
پنہاں نہیں ہے رتبہ آلِ رسول کا
سردار سب جوانوں کے ان کے لعل ہیں
مختار ہیں تصرف ان کا جہان پر
بد بخت اس امرِ حق میں کرتے مقال ہے
روزِ جزا سبھی کو حاجت انہیں کی ہے
سب امتوں کے محشر میں وہ مآل ہیں
سب جان لو عقیدہ ثاقب جلال کا
پھرتے ہیں جو بھی ان سے اہلِ ضلال ہیں

0
1