اُس نے بھی اُجڑے گُلشن کو مہکایا
کِھلنے سے پہلے ہی جو پُھول مرجھایا
یادوں کو تو مری جینے دے اے ظالم
زندگی میں یہی بچا ہے سرمایہ
جستجو تو بہت کی غم گساری کی
دل مگر میری باتوں میں نہیں آیا
بعد مدت نفس کے اِک دریچے سے
دیکھ کے خود کو میں خود سے ہی شرمایا

0
4