رنگ، خوشبو سے بھی پہلے، تم ہوئے ترتیب میں
آفریں صد آفریں آۓ جو تم تقریب میں
خاک کے پتلے کو اس نے قوتِ گویائی دی
سُن خُدا کی تو صدا اِس خلقت و ترکیب میں
ہیں دلیلیں یوں تو ساری ہی مری تائید کی
کیوں مگر سب ہاتھ دھوکر پڑگئے تکذیب میں
خیر دشمن تو ہیں دشمن، مجھ کو حیرت اس پہ ہے
ہاتھ اپنوں کے بھی نکلے ہیں مری تخریب میں
کب میں تیرے ہجر میں تجھ سے بھلا غافل رہا
دن یہ میرے کٹ رہے ہیں وصل کی ترکیب میں
گالیاں دیتے رہے وہ میں دعا دیتا رہا
بس یہی تھا فرق ان کی اور مری تہذیب میں
کیا ضرورت ہے ہمیں شیطان کے بہکاوے کی
ہم تو خود ہی مبتلا ہیں نفس کی ترغیب میں

0
3