تنہائیوں کے کرب میں مارا گیا ہوں میں
اپنے اکیلے پن میں اتارا گیا ہوں میں
یہ سلطنت ہے میرے عروج و زوال کی
اپنے حواریوں سے بھی ہارا گیا ہوں میں
شطرنج کے پیادے سے گھوڑے کی مات تک
کتنی بغاوتوں پہ ابھارا گیا ہوں میں
نوکِ سناں پہ رکھے ہوئے کچھ سروں کی طرح
اس شہرِ کربلا سے گزارا گیا ہوں میں
زنجیرِ در کو دیکھ کے آیا مجھے خیال
شاید کبھی یہاں بھی پکارا گیا ہوں میں
محسوس کر رہا ہوں میں لفظوں کی ہر قبا
لکھ لکھ کے کاغذوں پہ نکھارا گیا ہوں میں
ساگر تمہارے ہاتھ سے ہر بار ٹوٹ کر
کتنی ہی بار پھر سے سنوارا گیا ہوں میں

0
6