ستم ٹوٹا اند و ہناک اس جہاں پر
مقدس ہوئے سینے چاک اس جہاں پر
 گنہگار ناپاک دشمن کے ہاتھوں 
ستائے گئے جسم پاک اس جہاں پر 
کیے قتل معصوم دھوکے میں لا کر 
ہوا دھوکا افسوس ناک اس جہاں پر 
مقدس سروں کو اَنی پر اُٹھایا
منافق نے کر کے ہلاک اس جہاں پر
بچھی کربلا میں صف بین و ماتم
 تھا منظر بہت کرب ناک اس جہاں پر 
بہتر شہیدوں کا غم لے کے دل میں
ہے ماتم میں کربل کی خاک اس جہاں پر 
حسین ابنِ حیدر نے باطل سے لڑ کر 
بٹھا دی ہے مسلم کی دھاک اس جہاں پر
سدا ہوگا ماتم حسینی، سحاب
ہوا سانحہ شرم ناک اس جہاں پر

0
5