پردیس چل دیا کوئی گھر بار چھوڑ کر
جھلسے گا جسم سایہ دیوار چھوڑ کر
پردیس کے جنون میں پہنی قبائے قیس
مجنوں بنے تھے خلعت و دستار چھوڑ کر
پردیس کے خرابوں میں کاٹی تمام عمر
صحرا میں بھٹکے دیس کے گلزار چھوڑ کر
الجھے وطن سے دور ہیں تقسیم و ضرب میں
آئے تھے سلجھے گیسو ءِ خمدار چھوڑ کر
لوگوں کے گھر بناتے ہیں پردیس میں سحاب
گھر بار اپنے آئے جو مسمار چھوڑ کر
پردیسی لوٹا دیس تو اولاد سے کہا
جانا نہ اپنا دیس خبردار چھوڑ کر
گر دیس میں ہی نان جویں دستیاب ہو
پردیس کوئی جائے نہ گھر بار چھوڑ کر
پردیس رہ کے کچھ نہ کمایا سحاب نے
اولاد کیلئے گیا اشعار چھوڑ کر

1