| بہ اذنِ ربِ شریعت کشید کرتا ہوں |
| کسی کے ہونٹوں سے امرت کشید کرتا ہوں |
| میں ایک تام طلسمی بدن سے روزانہ |
| نیا مزہ ، نئی لذت کشید کرتا ہوں |
| عداوتوں کے شجر پر لگے ہوئے گُل سے |
| نہ پوچھ کیسے محبت کشید کرتا ہوں |
| قریب رکھتا ہوں بستی کے سب بزرگوں کو |
| اور ان کی باتوں سے حکمت کشید کرتا ہوں |
| ہنر سکھا دیا مجھ کو فراق نے ایسا |
| میں اپنے غم سے مسرت کشید کرتا ہوں |
| کسی کی یاد کے یخ بستہ باد و باراں سے |
| کمالِ فن سے حرارت کشید کرتا ہوں |
| اسی لیے ہے سخن منفرد مرا آسی |
| روایتوں سے میں جدت کشید کرتا ہوں |
| قمرآسیؔ |
معلومات