| اُس کی آنکھوں میں چھپی تصویر کو پڑھتے ہوئے |
| رو پڑا میں آج اک تحریر کو پڑھتے ہوئے |
| اک اذیت کا جہانِ بے کراں کُھلتا گیا |
| آپ کی مسکان کی تفسیر کو پڑھتے ہوئے |
| تب سمجھ آیا کسے کہتے ہیں مرگِ آگہی |
| جب نہیں دھڑکا مرا دل میر کو پڑھتے ہوئے |
| وصل کا موقع گنوا کر غیر حالت ہو گئی |
| خط جمعے کی رات والا پیر کو پڑھتے ہوئے |
| دن گزارا شمس کی تاثیر کی تحقیق میں |
| رات کاٹی چاند کی تنویر کو پڑھتے ہوئے |
| محو تھا تجھ میں کہ دی اک مرغ نے بانگِ سحر |
| خواب سے آنکھیں کھلیں تعبیر کو پڑھتے ہوئے |
| تم بھی آسی قیس ہو جاؤ گے ان اشعار سے |
| جیسے رانجھا ہو گیا میں ہیر کو پڑھتے ہوئے |
| قمرآسیؔ |
معلومات