جس دن سے تمہیں دیکھا ہے کچھ بے چین سا ہوں
جیسے دل تو پاس ہے دھڑکن نہیں ہے
سانس تو ہے ہوا نہیں ہے
بے سدھ ہوں اس طرح چلنے کی سقت نہیں ہے
میرے بدن کے ہر انگ میں ہمت نہیں ہے
روبرو تم کو کبھی دیکھ نہیں سکا
تمہاری آنکھ میں یکسر جھانک نہیں سکا
بات تک تو تم سے کھل کے کر نہیں سکا
اپنی اس حالِ شکستہ پہ افسوس ہے مجھے
اور بہت ہی افسوس ہے !!!
سنا ہے کہ تم شاید جا چکی ہو
یہاں کے در و دیوار بھلا چکی ہو
یعنی کے ہر نقش مٹا چکی ہو
یعنی کے میرے وہم و گماں کا سایہ بھی نہیں
میں جسے دیکھ نہ سکا آنکھ بھر وہ چہرہ بھی نہیں
فقط میرا احساس ہے وہ بھی زندہ لاش کی طرح
نجانے ابھی تم سے کیا کچھ کہنا تھا
چند دن تو تمہارے ساتھ مجھے رہنا تھا
اک کہانی سنانی تھی اک شعر سنانا تھا
نجانے ابھی تو تم سے کیا کچھ کہنا تھا
اب لگتا ہے میری زباں خاموش تھی اور خاموش رہے گی
میری حالت کی طرح میری خواہش بے ہوش رہے گی
تم سے پوچھنا تھا یہ احساس کیا ہے جو تم نے جگایا ہے
یہ شعلہ کیا ہے جو دل میں تم نے جلایا ہے
یہ کون سی آیت ہے جس کا الہام مجھ پہ ہوا ہے
یہ کون سی نیکی ہے جس کا انعام مجھ پہ ہوا ہے
یہ محبت ہے یا پھر فقط اک حسرت
ابھی تو بہت کچھ تم سے کہتا تھا

0
3