| ” تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجیئے“ |
| خط جلا دیے میں نے |
| جو دیے بھی روشن تھے |
| سب بجھا دیے میں نے |
| وہ دیے کہ قائم تھی |
| روشنی ابھی تک بھی |
| اس اندھیرے گھپ دل میں |
| جس نے آپ سے مل کر |
| مر کے سانس پائی تھی |
| خیر اب بھلا کیا ہو |
| خط جلا دیے میں نے |
| خط تمھاری یادوں کی |
| آخری نشانی تھی |
| سب نشاں مٹائے ہیں |
| تیرے خط جلائے ہیں |
| ایسے خط بھی تھے اس میں |
| جو کبھی نہیں آئے |
| میری خستہ چوکھٹ پر |
| جو پڑھے نہیں میں نے |
| وہ بھی اب جلا ڈالے |
| پڑھ بھی کیسے پاتا میں |
| جب لکھے نہیں تم نے |
| اپنی باتیں خود تک ہی |
| رکھ کے مجھ سے کہتی ہو |
| میرے خط جلا دو تم |
| جو کہا کبھی میں نے |
| اس کو اب بھلا دو تم |
| ہائے میری محبوبہ |
| تم بھلا بتاؤ تو |
| کیسے خط جلاؤں میں |
| جو کہاں کبھی تم نے |
| اب اسے بھلاؤں میں؟ |
| خط جلا دیے میں نے |
| کہنا کتنا آساں ہے |
| سو یونہی کہا میں نے |
| خط جلا دیے میں نے |
| خط جلانے کا مطلب |
| خود کو ختم کرنا ہے |
| خود کو مار دینا ہے |
| تم کو مار دینا ہے |
| سو مری شریکِ غم |
| خط نہیں جلاؤں گا |
| کچھ نہیں بھلاؤں گا |
| تیرے دل کی دہ باتیں |
| جو نہ آئیں ہونٹوں پر |
| وہ بھی جانتا ہوں میں |
| کچھ نہیں بھلاؤں گا |
| تیرے خط ہیں لوحِ دل |
| میں انھیں سنبھالوں گا |
معلومات