تعریف اس زمیں کی ممکن کہاں بریں ہے
دیکھا گیا جہاں میں ہر نقش دل نشیں ہے
پھولوں پہ شبنمی سا ٹھہرا ہوا تبسم
قدرت کے ہاتھ میں بھی کیسا حسیں قریں ہے
دریا بھی گنگناتے، صحرا بھی مسکراتے
جب سے تری نگاہوں کا شہر میں یقیں ہے
ہر سمت روشنی ہے، ہر سو سکونِ خاطر
شاید کسی کے دل میں اخلاص کی زمیں ہے
آنکھوں میں اس کی صورت دل میں اسی کا چرچا
جیسے کھلا گلستاں جیسے کوئی یقیں ہے
وہ مسکرا کے بولے تو روشنی سی پھیلے
لہجے میں اس کے جیسے خوشبو کی نازنیں ہے
ہر سمت اس کی خوشبو، ہر سو اسی کا جادو
محفل میں یوں لگے ہے، گویا بہارگیں ہیں
ایسی سخن میں تیرے خوشبو سی رچ گئی ہے
لفظوں کے پیرہن میں احساسِ آتشیں ہے
ارشدؔ یہ عشق شاید معراج زندگی ہے
دل جس پہ آ گیا ہو، بس شخص وہ حسیں ہے
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0