بزمِ سَرائے یار میں میرا بَھرم رہے
ہر پل ثَنائے یار میں میرا قَلم رہے
تصویر تیری میں نے سجائی نظر میں ہے
تاکہ مِری نظر میں وَفا و شَرم رہے
یادوں کا سلسلہ ہے صَدائے کراہ بھی
یادوں کی چاہتوں میں ہمیشہ زَخم رہے
ہم کو پسند آئی اے ساقی تِری ادا
صدقے مَیں اُس ادا کے جو تارِ دِلَم رہے
جیسے رکھے وہ یار، اُسی حال میں رہوں
مجھ پر عطائے یار کا لُطف و کَرم رہے
گردن جُھکائے رکھتا ہوں، اے یار اِس لیے
میری رِکاب پر تِرا ہر دَم قَدم رہے
مُجھ کو بقا ملے نہ ملے، اُس کی رضا ملے
راضی رہے وہ یار، دَوامِ نِعَم رہے
رازِ فنا بقا کو میں سمجھا ہوں اِس طرح
باقی رہے گا یار، مُجھی پر عَدم رہے
میرا نِشاں رہے نہ رہے، بس وُہی رہے
اُس یارِ باکمال کا جاہ و حَشم رہے
رُسوا ہوا غلؔام تِری چاہ میں مگر
عزت اِسی میں ہے کہ رَضائے صَنم رہے

0
6