سِتَم تیرے نَہ ہونے کا جو جھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
یِہ کَیسا اِک تَماشا ہَے جو کھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​کَمی مُجھ مَیں ہی اَیسی ہَے کِہ تیرا ہَر کَہا مَانا
تَبھی اِس اِمتِحاں مَیں خُود جو فیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​مُحَبَّت کے زَمانے مَیں جو لِی تھِیں چُوڑِیاں مَیں نے
مُحَبَّت رَہ نَہ پائی، کَر تو سیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​مِرے سِینے مَیں ٹُوٹا جو، کَبھی شِیشہ نَہیں تھا وُہ
جو دِل ہَے عِشق سے ٹُوٹا، وُہ میل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​نَوِیدؔ اَیسا تِری قِسمَت مَیں شَایَد تھا اَزَل سے ہی
مُسَلسَل غَم کی مَیں گاڑی جو ٹھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں

0
1