بے غرض کوئی بھلا آئے ہی کیوں
حال دل کا پوچھ کر جائے ہی کیوں
پھول ہوں میں شاخ سے بچھڑا ہوا
اب مجھے کوئی بھلا بھائے ہی کیوں
چوٹ لگ نے سے میں بکھرا ہوں پڑا
مجھ کو اب کوئی اٹھا لائے ہی کیوں
اب نہ طاقت ہے نہ مجھ میں جوش ہے
اب گھٹا اس دشت میں چھائے ہی کیوں
ہوگئیں تدبیریں ساری اعتباؔر
دل بھلا اب ان کو اپنائے ہی کیوں

11