| بے غرض کوئی بھلا آئے ہی کیوں |
| حال دل کا پوچھ کر جائے ہی کیوں |
| پھول ہوں میں شاخ سے بچھڑا ہوا |
| اب مجھے کوئی بھلا بھائے ہی کیوں |
| چوٹ لگ نے سے میں بکھرا ہوں پڑا |
| مجھ کو اب کوئی اٹھا لائے ہی کیوں |
| اب نہ طاقت ہے نہ مجھ میں جوش ہے |
| اب گھٹا اس دشت میں چھائے ہی کیوں |
| ہوگئیں تدبیریں ساری اعتباؔر |
| دل بھلا اب ان کو اپنائے ہی کیوں |
معلومات