جانے کتنے ہی غم سہہ گیا ہوں
میں ستم در ستم سہہ گیا ہوں
نا سہا جاۓ یہ ہجر تیرا
بے رخی تو صنم سہہ گیا ہوں
پھر لگاۓ نئے زخم اس نے
یہ لگا ہو گا کم سہہ گیا ہوں
دل جلانے کو اک مسکراہٹ
تیرے لب کی قسم سہہ گیا ہوں
سہہ گیا وار تیری ادا کے
زلف کے پیچ و خم سہہ گیا ہوں
کم مبشر سہے ہیں کسی نے
میں جو کرب و الم سہہ گیا ہوں

0
91