اقبالی رنگ کی جدید فکری نظم
--------------------------
یہ خاک کبھی محرمِ اسرارِ جہاں تھی
ہر ذرّۂ خاموش میں اک برقِ تپاں تھی
سوزِ یقیں ذوقِ نمو و جراتِ پیہم
تعمیرِ جہاں کے لیے سرمایۂ جاں تھی
افلاک سے آگے بھی تھیں منزل کی فضائیں
ہر فکر نئی وسعتِ امکاں کا نشاں تھی
پھر فکر پہ طاری ہوئے تہذیب کے پردے
بیدار نظر گم شدۂ خوابِ گراں تھی
میزانِ خرد ہاتھ سے یوں چھوٹ گیا پھر
ہر شے کی حقیقت بھی فقط سود و زیاں تھی
گرمیِ سخن خوب تھی اربابِ ہنر میں
مفقود مگر دولتِ اخلاص و بیاں تھی
پرواز کے آداب رہے زیرِ لبِ خاک
باقی تھے پر و بال مگر سوز کہاں تھا
قائم ہیں شعائر کے سب آئین پرانے
بے روح عبادت ہے کہ گم سوزِ نہاں ہے
شاعر یہی تو نوحۂ اہلِ خرداں ہے
بجھتا ہوا اک شعلۂ ادراکِ جہاں ہے

3