دل میں ایمان کی دولت ہو ضروری ہے بہت
بس محمد سے محبت ہو ضروری ہے بہت
ہر نَفَس رب کی عبادت ہو ضروری ہے بہت
دل میں سرکار کی الفت ہو ضروری ہے بہت
یاد فرماتے ہیں امت کو سدا پیارے نبی
یہی امّت کی بھی عادت ہو ضروری ہے بہت
ہم کو احسانِ نبی یاد ہیں با فضلِ خدا
ہم میں آدم کی شرافت ہو ضروری ہے بہت
تسمیہ پڑھتے ہی ہو لب پہ صَلَاواتِ نبی
کام میں نام کی برکت ہو ضروری ہے بہت
با خدا اذنِ خدا سے ہیں نبی بحرِ عطا
ہم میں کچھ پانے کی چاہت ہو ضروری ہے بہت
جو ہے گستاخِ نبی وہ لگے دشمن ہی ہمیں
اپنے ایمان میں غیرت ہو ضروری ہے بہت
عشق کے ساتھ وفا کا بھی تقاضا ہے یہی
ان کے دشمن سے عداوت ہو ضروری ہے بہت
دل جو ہنگامۂ دنیا سے پریشاں ہو کبھی
نعتِ سرکار کی راحت ہو ضروری ہے بہت
یوں تو سرکار کی الفت میں ندامت ہے مگر
عشق میں زورِ شجاعت ہو ضروری ہے بہت
قلب کو عشقِ محمد سے سجانا ہو اگر
دل میں ماں باپ کی عظمت ہو ضروری ہے بہت
آخری خطبے میں فرمایا نبی پاک نے خود
آلِ اطہر کی اِطَاعَت ہو ضروری ہے بہت
وقتِ بیعَت مرے مرشد نے یہ فرمایا ذکیؔ
ہم کو سرکار سے نسبت ہو ضروری ہے بہت

0
2