| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| اس غمِ تفریق سے ہے دل میں صدمہ الوداع |
| تم سے ہی سیکھا ہے ہم نے حق نگاری کا ہنر |
| یاد آئے گا بہت یہ علم و دانش کا سفر |
| گلستانِ علم و حکمت کا اے چشمہ الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| ہوں سبھی استاذ پر یارب کروڑوں رحمتیں |
| دونوں عالم میں ملیں اُن کو ہمیشہ راحتیں |
| یاد رکھے گا انہیں سارا زمانہ الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| حضرتِ ممتاز نے کیا خوب سینچا یہ چمن |
| حضرت اسلام دیں ہیں سائبان علم و فن |
| ان کے دم سے گلستاں یہ لہلہایا،الوداع |
| الوداع اے درس گاہ علم افتا الوداع |
| حضرتِ مفتی جسیرالدین کی شفقت رہی |
| حل ’’سراجی‘‘ کا ملا، میراث کی عقدہ کشی |
| علم کا پیکر تھے وہ سب سے یگانہ الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| حضرتِ عبدالعزیز ہیں صاحبِ روشن دماغ |
| جن سے’’الاشباہ‘‘ کے نکتوں کا ملا ہم کو سراغ |
| یاد آئے گا وہ طرزِ٠ مخلصانہ الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| حضرتِ راسخ نے سمجھایا اصولوں کا نظام |
| ’’رسمِ مفتی‘‘ سے ہوا ہے پختہ تر اپنا کلام |
| رستۂِ حق ان سے ہی ہم سب نے پایا الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| مفتی افسر ہیں ہمارے بحرِ دانش کے گہر |
| ’’درِ مختار‘‘ ان سے پڑھ کر ہم ہوئے ہیں دیدہ ور |
| کہہ رہے ہیں ہم سبھی روکر خدایا الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
| آپ نے سکھلا دیا ہے ہم کو فنّ کمپیوٹر |
| اس زمانے میں جو فن ہے انتہائی معتبر |
| نورِ چشمِ مہتمم حضرت زکریا الوداع |
| ہے تقیؔ کی یہ دعا، سرسبز یہ گلشن رہے |
| علم کے ان قمقموں سے بزم یہ روشن رہے |
| عزمِ خدمت کو دلوں میں ہے بسایا الوداع |
| الوداع اے درس گاہِ علمِ افتا الوداع |
معلومات