بہت قادر ہوں شامت کا میں مارا
سواۓ صبر کے پر کیا ہے چارہ
غصیلا ہے بہت وہ ماہ پارہ
چڑھا رہتا سدا ہے اس کا پارا
کوئی ہمدم نہیں کوئی سہارا
کوئی ساحل نہیں کوئی کنارہ
یوں کہنے کو تو ہے یہ دل ہمارا
مگر اس پر کسی کا ہے اجارہ
نہیں پھر جڑ سکا شيشہ گروں سے
ہوا دل ٹوٹ کر یوں پارہ پارہ
ہوس کیوں قصرِعالی شان کی تھی
کہ جب دو گز زمیں پر تھا گزارہ
دھڑا دھڑ بک رہا ہے میکدوں میں
مرا اس ماہ کا غم کا شمارہ
محبت ہے رواں اک بحر لیکن
نہیں اس بحر کا کوئی کنارہ
ابھی تک ڈھونڈتا ہوں میں خوشی کو
ہوئی یوں چھوڑ کر نو دو گِیارَہ
وفا نفسِ محبت کی حقیقت
محبت ہے وفا کا استعارہ
نہیں نادار کو چوری کا خدشہ
نہیں مفلس کو ہوتا ہے خسارہ
تنوع ہر ادا میں اس قدر ہے
کروں ہر بات پر میں استخارہ
ہمارے بالوں میں اٹکا ہوا ہے
تمہارے کان کا کیوں گوش وارہ
گرانی ہو گئی ہے اتنی قادر
بڑی مشکل سے ہوتا ہے گزارہ

0