| نبی ﷺ نے قرآں سنا سنا کے حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
| چراغِ ایماں جلا جلا کے، حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
| زمیں پہ جب نورِ حق وہ لائے، صَنَم کَدے سارے تھر تھرائے |
| نظامِ باطل مٹا مٹا کے، حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
| زمانہ سارا بھٹک رہا تھا، نہ کوئی رہبر نہ آسرا تھا |
| ٹھکانہ ان کو دلا دلا کے، حیات نو کا سبق سکھایا |
| وہ عَدْلْ ایسا جہاں میں لائے، کہ شیر بکری گلے ملائے |
| حدودِ حق کو بتا بتا کے، حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
| غریب و بے کس جو ہو رہے تھے، حَقارتوں میں جو کھو رہے تھے |
| مُعَزَّزُ ان کو بنا بنا کے، حیات نو کا سبق سکھایا |
| عَدُوّ کو جس نے مُعاف کر کے، جَفا کے بدلے وَفا ہی کر کے |
| دلوں میں الفت بسا بسا کے، حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
| جو لاکھ طوفاں اُمَنڈ آئے، قدم ذرا بھی نہ ڈگمگائے |
| کہ پرچم حق اٹھا اٹھا کے، حیات نو کا سبق سکھایا |
| یہی تَمَنا ہے اے مُنَوَّرؔ، رہے لبوں پر ثنائے سرور |
| وہ جس نے آنسوں بہا بہا کے، حیاتِ نو کا سبق سکھایا |
معلومات