| خوش خصال و خوش خیال و خوش گماں رہتے رہے |
| ہم زمیں پر ہو کے مثلِ آسماں رہتے رہے |
| بیتے پل کو سوچ کر ماتم کناں ہوتے ہیں ہم |
| الفتوں کے دور میں کیوں بدگماں رہتے رہے |
| وقت کے دھارے میں ہم ایسے بہے کے آج تک |
| دوستوں اور دشمنوں کے درمیاں رہتے رہے |
| ہر کسی کو غمزدہ دیکھا تو سوچا بیٹھ کر |
| کون سے وہ لوگ تھے جو شادماں رہتے رہے |
| اس جہانِ نارسا میں کس نے پائیں منزلیں |
| ہم بھی ان کے جیسے بحرِ بیکراں رہتے رہے |
| دوسروں کو حق دلانے کے لیے گویا رہے |
| آپ اپنے واسطے ہم بے زباں رہتے رہے |
| جب ہمیں تکلیف سہنے کا سلیقہ آ گیا |
| زندگی کے روز و شب بھی مہرباں رہتے رہے |
معلومات