یہ کیسا ہوا شہرِ دل پر فُسوں ہے
کہ بستا نہیں جو یہاں پر سکوں ہے
جو کچھ بھی عیاں ہے وہی بے نشاں ہے
یہ آگاہی ہے یا خِرد کا جنوں ہے

0
4