حقیقتیں سب سمیٹ لو تم ہماری آنکھوں کو خواب دے دو
ہے شادمانی پہ حق تمہارا ہمیں سب اپنے عذاب دے دو
جو آنکھ میں بہہ رہا تھا دریا وہ دل کے صحرا میں کھو گیا ہے
مگر ہے صحرائے دل بھی پیاسا، جو دے سکو تو سراب دے دو
یہ ذات میری ہوئی ہے گھائل، نہیں تماشہ تو اور کیا ہے
بہت سوالوں کا بوجھ دل پر اے زندگی اب جواب دے دو
اے میرے روٹھے ہوئے مقدر یہ خالی دامن رہے گا کب تک
ملی ہیں گن گن کے مجھ کو خوشیاں تو غم ابھی بے حساب دے دو
اگر نہ سورج ملے تو پھر شام سے پتہ آ کے پوچھ اختر
جو ہو سکے تو مرے نصیبوں کی رات کو ماہ تاب دے دو

0
20