| دل کی بستی رہ گئی ہے سب اجڑ کے |
| کیسے رہ پاؤں گا میں تم سے بچھڑ کے |
| اس طرح سے آج میرا دل ہے دھڑکے |
| بجھنے والی شمع کی جوں لو ہو پھڑکے |
| بات بھی کرتے ہیں ہم سے تو بگڑ کے |
| پاس بھی بیٹھیں ہمارے تو سکڑ کے |
| سانسوں میں مچ جاتی ہے کیوں ایک ہلچل |
| دیکھتے ہی آپ کو کیوں دل یہ دھڑکے |
| غصے میں کچھ اور بھی لگتے ہیں پیارے |
| جو ابھی بیٹھے ہیں ہم سے لڑ جھگڑ کے |
| بس یہ ہی اک التجا تم سے ہے میری |
| چھوڑنا مت ہاتھ میرا تم پکڑ کے |
| آنے والا کیا کوئی طوفان سا ہے |
| دل مرا کیوں دھڑکے ہے کیوں آنکھ پھڑکے |
| لڑ کھڑا کر بے خودی میں گر ہی جاتے |
| تھام لیتے تم نہ جو ہم کو یوں بڑھ کے |
| ہم کو تیرے آنے کا ہی بس گماں ہو |
| جب ہوا چلنے سے پتا بھی جو کھڑ کے |
| یوں جنوں میں حال میرا ہو گیا ہے |
| چھیڑتے ہیں سب گلی کے مجھ کو لڑکے |
| کانپ سا جاتا ہے جانے دل مرا کیوں |
| پیڑ سے پتا بھی جو گر جاۓ جھڑ کے |
| ایک تم قابو نہیں آۓ ہمارے |
| کیا کریں گے ساری دنیا سے نبڑ کے |
| نیند آتی ہے خیالوں میں ہی تیرے |
| یاد کرتا ہوں تجھے میں تڑکے تڑکے |
| آج وہ قادر سبھی زیرِ زمیں ہیں |
| شان سے چلتے تھے جو اس پر اکڑ کے |
معلومات