تم پوچھتے ہو کیسا ہے اور کیا ہے محمد
سن غور سے میں کہتا ہوں کیسا ہے محمد
ایمان ہے میرا یہ عقیدہ ہے یقیں ہے
دنیا میں محمد سا نہیں کوئی حسیں ہے
ثانی کوئی دنیا میں محمد کا نہیں ہے
اک میں ہی نہیں اس پہ فدا ساری زمیں ہے
اور میرے لئے جان سے پیارا ہے محمد
تخلیقِ دو عالم کا سبب ایک وہی ذات
وہ ذات جب آئی تو چھٹیں دہر سے ظلمات
اس ذات کی برکت ہی سے روشن ہیں یہ دن رات
دیتی ہیں گواہی سبھی قرآن کی آیات
اللہ کا بھی نبیوں میں دلارا ہے محمد
اللہ کی قدرت کا حسیں راز وہی ہے
ہر ٹوٹی ہوئی آس کی پرواز وہی ہے
اس بزمِ جہاں کا، سرِ آغاز وہی ہے
سب دیں گے جسے حشر میں آواز وہی ہے
معلوم ہوا سب کا سہارا ہے محمد
اصحاب کے سینوں میں عقیدت کے شرارے
تاریک زمانے کے چمکتے ہوئے تارے
اک حکم پہ ہی جان لٹانے کو تھے سارے
سب ایک سے بڑھ کر تھے محمد کے دلارے
ان سب کی نگاہوں کا نظارا ہے محمد
ہے میری یہ خواہش کہ مری ایسی قضا ہو
سرکار کے روضے پہ مرا ہاتھ دھرا ہو
اور ورد زباں صل علی صلی علی ہو
جینے سے تقیؔ پھر مجھے مرنے میں مزہ ہو
دل اور میری سانسوں میں بستا ہے محمد

0
3