بیاض زندگی میں ہو بہو تحریر ہوتا ہے
ہمارا ہر عمل ہی اصل میں تقدیر ہوتا ہے
ہر اک تعمیر میں تخریب کا پہلو نہاں دیکھا
جسے برباد ہونا ہے وہی تعمیر ہوتا ہے
محبت ہو صداقت ہو امارت ہو ،سفارت ہو
تو پھر اک تاج کی صورت محل تعمیر ہوتا ہے
تمنا بے قیادت دل کی منزل پا نہیں سکتی
کہ جو بھی کارواں ہو اس کا کوئی میر ہوتا ہے
کیا ہے وقت نے یوں منتشر شیرازہ ہستی کا
تعلق یاراں بھی اب مشکلوں زنجیر ہوتا ہے
بیاں سے تیز تر ہوتا ہے اندازِ بیاں شاعر
لَبِ شَمْشِیر سے بڑھ کر دَمِ شَمْشِیر ہوتا ہے

0
5