| بیاض زندگی میں ہو بہو تحریر ہوتا ہے |
| ہمارا ہر عمل ہی اصل میں تقدیر ہوتا ہے |
| ہر اک تعمیر میں تخریب کا پہلو نہاں دیکھا |
| جسے برباد ہونا ہے وہی تعمیر ہوتا ہے |
| محبت ہو صداقت ہو امارت ہو ،سفارت ہو |
| تو پھر اک تاج کی صورت محل تعمیر ہوتا ہے |
| تمنا بے قیادت دل کی منزل پا نہیں سکتی |
| کہ جو بھی کارواں ہو اس کا کوئی میر ہوتا ہے |
| کیا ہے وقت نے یوں منتشر شیرازہ ہستی کا |
| تعلق یاراں بھی اب مشکلوں زنجیر ہوتا ہے |
| بیاں سے تیز تر ہوتا ہے اندازِ بیاں شاعر |
| لَبِ شَمْشِیر سے بڑھ کر دَمِ شَمْشِیر ہوتا ہے |
معلومات