شکر تیرا اے مرے رب، رحمتِ کامل ملی
زندگی کو آج میری، اک حسیں منزل ملی
شکر تیرا یا الٰہی! کیا حسیں نعمت ملی
بیٹی کے اس روپ میں ، اک پیکرِ رحمت ملی
بچپنے کی آرزو جو، دل میں تھی زندہ کہیں
اس کی صورت میں مجھے ، وہ مل گئی ہے اب یہیں
یہ مری دھڑکن، مری جاں، زیست کا حاصل بنی
فخر میرا، شان میری، روح کی محفل بنی
عمرِ طولانی اسے دے، یا الٰہی ' یا خدا
اس پہ سایہ گیر ہو بس، تیری رحمت ہی سدا
اس کی آنکھوں میں کبھی بھی، اشک کا قطرہ نہ ہو
اس کے حصے کا کوئی دکھ، اس کا ہم سایہ نہ ہو
سارے اس کے رنج و غم، مجھ کو دوامی آ ملیں
پھول راحت کے سدا ، اس کی گلی میں ہی کھلیں
مسکراتے ہی رہیں اس کے، لبِ شیریں سدا
زندگی ہو اس کی آساں، دے اسے ایسی جزا
دینِ کامل کی اسے تو، روشنی سے کر منیر
ایک کامل مومنہ ہو، پاک ہو اس کا ضمیر
دین کی خدمت میں گزرے، اس کی ساری زندگی
تیرے ہی آگے جھکے سر، ہو تری ہی بندگی
دین کی خدمت کو اس کا، مقصدِ ہستی بنا
اس مری ننھی پری کو، باعثِ تسکیں بنا
دین کی خدمت کرے یہ، عمر بھر ' یا کبریا !
فضل و رحمت کی رہے ، اس پر سدا تیری ردا
اے خدایا ! سن لے بِسْمِلؔ کی یہ بے لوث التجا
اس کی ہر ساعت پہ، تیرے کرم کی ہی ہو ضیا

0
3