مری قسمت میں لکھتا ہوں ترا ہر وصف محکم سا
تری تذکیر کر دے گی مجھے پاکانِ منعم سا
نمازیں آج کعبہ میں علی الاعلاں ادا ہوں گی
کہ آیا ہے سرِ میداں جری فاروقِ اعظم سا
نبوت بھی اگر ملتی جہاں میں مصطفیٰ ﷺ کے بعد
تو ملنا تھا نبی ہم کو مرے فاروقِ اعظم سا
محب تیرے تو ہوں گے بس تری آغوشِ الفت میں
ترا دشمن پھرے گا حشر میں شیطانِ مجرم سا
انہیں جو مصطفیٰ ﷺ کی آل کا ٹھہراتا ہو مجرم
اسے کہہ دو کہ کھنگالے ہے اس کا شجرہ مبہم سا
ہمیں خیرات دو ایسی غموں سے ہو نجات آقا
نہیں ہے بے نوا ہم سا نہیں حاجت روا تم سا
حسنؔ نے خوب فرمایا ترے دشمن کمینوں کو
الہی روز و ماہ و سن انہیں گزرے محرم سا
قصیدے جب سنائیں ہم تری شان و خلافت کے
خروج و رفض میں بنتا ہے اک ماحول ماتم سا
عدالت جان ہے ان کی شجاعت مان ہے ان کی
نہیں ثاقب ہوا کوئی بھی اس سلطانِ عالم سا

0
1