یکجا تھے سارے فہم و فراست میں پست لوگ
قبلہ بنے ہوئے تھے قبیلہ پرست لوگ
لگتا ہے چھو گیا اُنھیں وہ وحشتِ جنوں
اِس طرح اپنے آپ میں رہتے ہیں مست لوگ
کیا خوب ہر طرف ہے ترقّی کی دھوم دھام
کشکول تھامے پھرتے ہیں کاسہ بدست لوگ
سر پر ہے سائباں کی طرح دھوپ کا شجر
آرام کر رہے ہیں ابھی فاقہ مست لوگ
یوں ہی رہیں گے حرص و ہوس کے اگر اسیر
کھائیں گے اپنے آپ سے یوں ہی شکست لوگ

0
7