علم و ادب کے پیکر ہیں شیخ مفتی طاہر
فہم و خِرَد کے گوہر ہیں شیخ مفتی طاہر
لہجے میں نرمی ایسی، جیسے نسیم گلشن
اخلاق کے وہ مظہر ہیں شیخ مفتی طاہر
مسند پہ جب وہ بیٹھیں ، انوار علم بکھرے
علموں کے ایسے مصدر، ہیں شیخ مفتی طاہر
مشکل سوال جتنے، پل بھر میں حل ہوں سارے
ایسے فقیہہ و رہبر ہیں شیخ مفتی طاہر
یہ سادگی، یہ تقوی، یہ سنتوں سے الفت
نایاب ایسے جوہر ہیں شیخ مفتی طاہر
قول و عمل میں یکساں کردار میں حسیں ہیں
سیرت میں کیا ہی برتر ہیں شیخ مفتی طاہر
مسجد ہو یا ہو مکتب، یا مدرسہ کہیں پر
امداد لے کے در پر ہیں شیخ مفتی طاہر
بے کس، یتیم و مفلس، سب جن سے آس رکھتے
جود و سخا کا منظر ہیں شیخ مفتی طاہر
شب بھر خدا کے در پر، امت کے درد و غم میں
اشکوں کا اک سمندر ہیں شیخ مفتی طاہر
ان کی نگاہِ فیضی، دل کو کرے منورؔ
کیا نورِ حق سے انور ہیں شیخ مفتی طاہر

0
11